علمِ نحو میں اسم کو مختلف اعتبارات سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسم کی مشہور تقسیم درج ذیل پانچ اعتبارات سے ہے:
- مادہ کے اعتبار سے
- جنس کے اعتبار سے
- عدد کے اعتبار سے
- معرفہ و نکرہ (معین و غیر معین) کے اعتبار سے
- اعراب و بناء کے اعتبار سے
1۔ مادہ کے اعتبار سے اسم کی اقسام
مادہ کے اعتبار سے اسم کی تین قسمیں ہیں:
(الف) جامد
تعریف:
وہ اسم جو نہ کسی دوسرے لفظ سے بنا ہو اور نہ کسی دوسرے لفظ کے بنانے کا اصل ہو۔
مثالیں:
رجل، حجر، شجر، فرس۔
(ب) مصدر
تعریف:
وہ اسم جو کسی فعل کے اصل معنی پر بغیر زمانے کے دلالت کرے اور دوسرے مشتقات کے لیے اصل ہو۔
مثالیں:
كتابة، قراءة، علم، نصر۔
(ج) مشتق
تعریف:
وہ اسم جو مصدر یا فعل سے بنایا گیا ہو اور کسی ذات یا صفت پر دلالت کرے۔
مثالیں:
كاتب، مكتوب، عالم، معلوم، ناصر۔
2۔ جنس کے اعتبار سے اسم کی اقسام
جنس کے اعتبار سے اسم کی دو قسمیں ہیں:
(الف) مذکر
تعریف:
وہ اسم جو مرد یا مذکر چیز پر دلالت کرے۔
مثالیں:
رجل، طالب، أسد۔
(ب) مؤنث
تعریف:
وہ اسم جو عورت یا مؤنث چیز پر دلالت کرے۔
مثالیں:
امرأة، فاطمة، شجرة۔
مؤنث کی علامات
مؤنث کی پہچان کے لیے تین مشہور علامات ہیں:
1۔ تاء مربوطہ (ة)
مثال:
فاطمة، مدرسة، شجرة۔
2۔ الف مقصورہ (ى)
مثال:
سلمى، حبلى، كبرى۔
3۔ الف ممدودہ (اء)
مثال:
صحراء، حمراء، بيضاء۔
مؤنث کی اقسام
1۔ مؤنث حقیقی
وہ اسم جس کا مصداق حقیقت میں مؤنث ہو۔
مثال:
امرأة، بقرة، فاطمة۔
2۔ مؤنث لفظی
وہ اسم جو لفظ کے اعتبار سے مؤنث ہو لیکن حقیقت میں مذکر ہو۔
مثال:
طلحة، حمزة، معاوية۔
3۔ مؤنث معنوی
وہ اسم جو معنی کے اعتبار سے مؤنث ہو لیکن اس میں مؤنث کی علامت نہ ہو۔
مثال:
شمس، دار، عين۔
3۔ عدد کے اعتبار سے اسم کی اقسام
عدد کے اعتبار سے اسم کی تین قسمیں ہیں:
(الف) واحد
تعریف:
جو ایک فرد پر دلالت کرے۔
مثال:
طالب، كتاب، قلم۔
(ب) تثنیہ
تعریف:
جو دو افراد پر دلالت کرے۔
مثال:
طالبان، كتابان۔
(ج) جمع
تعریف:
جو دو سے زیادہ افراد پر دلالت کرے۔
جمع کی دو قسمیں ہیں:
1۔ جمع مکسر
2۔ جمع سالم
جمع مکسر
تعریف:
وہ جمع جس میں واحد کی اصل صورت میں تبدیلی آ جائے۔
مثالیں:
كتاب → كتب
رجل → رجال
قلم → أقلام
جمع مکسر کی اقسام
1۔ جمع قلت
وہ جمع جو تین سے دس تک کی تعداد پر دلالت کرے۔
مثالیں:
أنفس، أقلام، أطعمة۔
2۔ جمع کثرت
وہ جمع جو دس سے زیادہ تعداد پر دلالت کرے۔
مثالیں:
رجال، كتب، علماء۔
3۔ منتہی الجموع
وہ جمع مکسر جس کے وزن میں الف کے بعد دو یا تین حروف ہوں۔
مثالیں:
مساجد، مفاتيح، مصابيح۔
جمع سالم
تعریف:
وہ جمع جس میں واحد کی اصل صورت باقی رہے اور صرف آخر میں اضافہ کیا جائے۔
جمع سالم کی دو قسمیں ہیں:
1۔ جمع مذکر سالم
تعریف:
وہ جمع جس کے آخر میں واو نون (ون) یا یاء نون (ين) کا اضافہ ہو۔
مثالیں:
مسلم → مسلمون، مسلمين
معلم → معلمون، معلمين
2۔ جمع مؤنث سالم
تعریف:
وہ جمع جس کے آخر میں الف اور تاء (ات) کا اضافہ کیا جائے۔
مثالیں:
طالبة → طالبات
معلمة → معلمات
4۔ معرفہ و نکرہ کے اعتبار سے اسم کی اقسام
معرفہ
تعریف:
وہ اسم جو کسی معین اور معلوم شخص یا چیز پر دلالت کرے۔
معرفہ کی چھ قسمیں ہیں:
1۔ ضمیر
مثال:
أنا، نحن، هو۔
2۔ علم
مثال:
محمد، زيد، مكة۔
3۔ اسم اشارہ
مثال:
هذا، هذه، هؤلاء۔
4۔ اسم موصول
مثال:
الذي، التي، الذين۔
5۔ معرف باللام
مثال:
الكتاب، المسجد، الرجل۔
6۔ مضاف الی المعرفہ
مثال:
كتابُ الطالبِ، بابُ المسجدِ۔
نکرہ
تعریف:
وہ اسم جو کسی غیر معین شخص یا چیز پر دلالت کرے۔
مثال:
رجل، كتاب، مسجد۔
5۔ اعراب و بناء کے اعتبار سے اسم کی اقسام
(الف) معرب
تعریف:
وہ اسم جس کے آخر کی حرکت عامل کے بدلنے سے بدل جائے۔
مثال:
جاءَ زيدٌ
رأيتُ زيدًا
مررتُ بزيدٍ
(ب) مبنی
تعریف:
وہ اسم جس کے آخر کی حالت ہمیشہ ایک ہی رہے اور عامل کے بدلنے سے نہ بدلے۔
مثال:
هذا، هذه، الذي، التي، من، ما۔
خلاصہ
| اعتبار | اقسام |
|---|---|
| مادہ | جامد، مصدر، مشتق |
| جنس | مذکر، مؤنث |
| عدد | واحد، تثنیہ، جمع |
| جمع | مکسر، سالم |
| معرفہ | ضمیر، علم، اسم اشارہ، اسم موصول، معرف باللام، مضاف الی المعرفہ |
| اعراب | معرب، مبنی |
یہ اسم کی بنیادی تقسیم کا مکمل باب ہے۔