مبنی کی تعریف
مبنی وہ کلمہ ہے جس کے آخر کی حالت ہمیشہ ایک ہی رہے اور عامل کے بدلنے سے اس میں تبدیلی نہ آئے۔
مبنی کی دو قسمیں
مبنی کی دو قسمیں ہیں:
1۔ مبنی الاصل
2۔ مشابہِ مبنی
1۔ مبنی الاصل
تعریف:
وہ کلمات جو اصل ہی سے مبنی ہوں اور ان میں اعراب کی صلاحیت نہ ہو۔
مبنی الاصل کی تین قسمیں ہیں:
(1) فعلِ ماضی
تعریف:
وہ فعل جو گزرے ہوئے زمانے پر دلالت کرے۔
حکم:
فعلِ ماضی ہمیشہ مبنی ہوتا ہے۔
مثالیں:
- كتبَ
- نصرَ
- جلسَ
(2) فعلِ امرِ حاضر معروف
تعریف:
وہ فعل جس کے ذریعے کسی حاضر شخص کو کسی کام کا حکم دیا جائے۔
حکم:
فعلِ امر ہمیشہ مبنی ہوتا ہے۔
مثالیں:
- اكتبْ
- اجلسْ
- اقرأْ
(3) تمام حروف
تعریف:
حرف وہ کلمہ ہے جس کا معنی دوسرے کلمے کے ساتھ مل کر ظاہر ہوتا ہے۔
حکم:
تمام حروف مبنی ہوتے ہیں۔
مثالیں:
- مِنْ
- إلى
- في
- على
- هل
- لم
2۔ مشابہِ مبنی
تعریف:
وہ کلمات جو اصل میں معرب تھے لیکن کسی وجہ سے مبنی کے مشابہ ہو گئے، اس لیے مبنی قرار دیے گئے۔
مشابہِ مبنی کی آٹھ قسمیں ہیں:
1۔ ضمائر (مضمرات)
2۔ اسماء موصولہ
3۔ اسماء اشارہ
4۔ اسماء افعال
5۔ اسماء اصوات
6۔ اسماء کنایات
7۔ ظروف مبنیہ
8۔ اسماء استفہام و شرط
افعال میں بناء اور اعراب
فعلِ ماضی:
ہمیشہ مبنی۔
مثال:
كتبَ، كتبوا، كتبتْ
فعلِ امر:
ہمیشہ مبنی۔
مثال:
اكتبْ، اجلسْ
فعلِ مضارع:
اصل میں معرب ہے، مگر دو صورتوں میں مبنی ہوتا ہے:
1۔ نونِ نسوہ کے ساتھ
مثال:
النساءُ يكتبْنَ
یہ مبنی علی السکون ہوتا ہے۔
2۔ نونِ تاکید کے ساتھ
نونِ تاکید مباشر:
نون براہِ راست فعل سے متصل ہو۔
مثال:
لأكتبنَّ
یہ مبنی ہو جاتا ہے۔
نونِ تاکید غیر مباشر:
نون کے ساتھ اتصال کی شرط پوری نہ ہو۔
یہ معرب رہتا ہے۔
خلاصہ
مبنی الاصل:
1۔ فعل ماضی
2۔ فعل امر حاضر معروف
3۔ تمام حروف
مشابہ مبنی:
وہ اسماء جو کسی وجہ سے مبنی ہوئے۔