fxSSsUkHSUvoIxZmc6XIBFf6CJWjXDNqrejokZYK9RA

فعل کی تعریف، علامات اور اقسام

علمِ نحو میں فعل کلمہ کی تین اقسام (اسم، فعل، حرف) میں سے ایک اہم قسم ہے۔ ذیل میں اس کی تعریف، علامات اور اقسام بیان کی جا رہی ہیں۔


فعل کی تعریف

فعل وہ لفظ ہے جو کسی کام کے ہونے یا کسی حالت پر کسی زمانے (ماضی، حال یا مستقبل) کے ساتھ دلالت کرے۔

عربی تعریف:

الفعلُ ما دلَّ على معنى في نفسه واقترن بأحد الأزمنة الثلاثة.

ترجمہ:
فعل وہ کلمہ ہے جو اپنے اندر کسی معنی پر دلالت کرے اور تین زمانوں (ماضی، حال یا مستقبل) میں سے کسی ایک کے ساتھ مقید ہو۔

مثالیں:

  • كتبَ (اس نے لکھا)
  • يكتبُ (وہ لکھتا ہے)
  • اكتبْ (لکھو)

فعل کی علامات

فعل کی پہچان کے لیے چند علامات ہیں:

1۔ “قد” کا داخل ہونا

لفظ پر قد آ جائے تو وہ فعل ہوتا ہے۔

مثال:

  • قد كتبَ
  • قد نجحَ

2۔ “السين” کا داخل ہونا

مضارع فعل پر س داخل ہوتی ہے۔

مثال:

  • سيكتبُ
  • سيذهبُ

3۔ “سوف” کا داخل ہونا

مضارع فعل پر سوف آتی ہے۔

مثال:

  • سوف ينجحُ
  • سوف يسافرُ

4۔ تائے تانیثِ ساکنہ (تْ)

فعلِ ماضی کے آخر میں تْ آ سکتی ہے۔

مثال:

  • كتبتْ فاطمةُ
  • خرجتْ مريمُ

5۔ یائے مخاطب

فعلِ امر میں یائے مخاطب آ سکتی ہے۔

مثال:

  • اكتبي
  • اجلسي

فعل کی اقسام

زمانے کے اعتبار سے فعل تین قسم کا ہوتا ہے:

1۔ فعلِ ماضی

وہ فعل جو گزرے ہوئے زمانے پر دلالت کرے۔

علامت:

  • تائے تانیثِ ساکنہ (تْ) قبول کرتا ہے۔

مثالیں:

  • كتبَ
  • ذهبَ
  • جلسَ

2۔ فعلِ مضارع

وہ فعل جو موجودہ یا آنے والے زمانے پر دلالت کرے۔

علامات:

  • “س” اور “سوف” قبول کرتا ہے۔
  • “لم” داخل ہونے سے مجزوم ہوتا ہے۔

مثالیں:

  • يكتبُ
  • يقرأُ
  • يذهبُ

3۔ فعلِ امر

وہ فعل جس کے ذریعے کسی کام کا حکم یا درخواست کی جائے۔

علامت:

  • یائے مخاطب قبول کرتا ہے۔

مثالیں:

  • اكتبْ
  • اقرأْ
  • اجلسْ

خلاصہ

قسمتعریفمثال
فعلِ ماضیگزرے ہوئے زمانے پر دلالت کرےكتبَ
فعلِ مضارعحال یا مستقبل پر دلالت کرےيكتبُ
فعلِ امرحکم یا درخواست کے لیے ہواكتبْ

یاد رکھنے کی بات

  • قد → عموماً فعلِ ماضی کی علامت۔
  • س اور سوف → فعلِ مضارع کی علامت۔
  • تائے تانیثِ ساکنہ (تْ) → فعلِ ماضی کی علامت۔
  • یائے مخاطب → فعلِ امر کی علامت۔
Scroll to Top