اسمِ معرب کی تعریف
معرب وہ اسم ہے جس کے آخر کی حرکت عامل کے بدلنے سے بدل جائے۔
مثال:
- جاءَ زيدٌ
- رأيتُ زيدًا
- مررتُ بزيدٍ
اسمِ معرب کی تقسیم تین اعتبارات سے
اسمِ معرب کی تین اعتبار سے تقسیم کی جاتی ہے:
- صرف اور منعِ صرف کے اعتبار سے
- عوامل کے اعتبار سے
- علاماتِ اعراب کے اعتبار سے
اول: صرف اور منعِ صرف کے اعتبار سے
اس اعتبار سے اسمِ معرب کی دو قسمیں ہیں:
1۔ منصرف
تعریف:
وہ اسم جو تنوین قبول کرے اور حالتِ جر میں کسرہ قبول کرے۔
مثال:
- جاءَ رجلٌ
- رأيتُ رجلًا
- مررتُ برجلٍ
2۔ غیر منصرف (ممنوع من الصرف)
تعریف:
وہ اسم جو تنوین قبول نہ کرے اور حالتِ جر میں کسرہ کے بجائے فتحہ قبول کرے۔
مثال:
- جاءَ أحمدُ
- رأيتُ أحمدَ
- مررتُ بأحمدَ
منعِ صرف کے اسباب
دو علتوں کی وجہ سے:
1۔ علمیت + تانیث
مثال: فاطمة، زينب
2۔ علمیت + عجمی ہونا
مثال: إبراهيم، إسماعيل
3۔ علمیت + وزنِ فعل
مثال: أحمد، يزيد
4۔ علمیت + الف و نون زائدہ
مثال: عثمان، عمران
5۔ علمیت + ترکیب
مثال: بعلبك، حضرموت
6۔ علمیت + عدل
مثال: عمر
ایک علت کی وجہ سے:
1۔ الفِ تانیث مقصورہ
مثال: سلمى، حبلى
2۔ الفِ تانیث ممدودہ
مثال: حمراء، صحراء
3۔ صیغۂ منتہی الجموع
مثال: مساجد، مفاتيح
دوم: عوامل کے اعتبار سے اسمِ معرب کی اقسام
عوامل کے اعتبار سے اسم تین قسم کا ہوتا ہے:
1۔ مرفوعات
2۔ منصوبات
3۔ مجرورات
مرفوعات
وہ اسماء جن پر رفع کا حکم ہو۔
1۔ فاعل
وہ اسم جس سے فعل کا صادر ہونا معلوم ہو۔
مثال:
كتبَ الطالبُ الدرسَ۔
2۔ نائب الفاعل
وہ اسم جو مجہول فعل کے ساتھ فاعل کی جگہ آئے۔
مثال:
كُتِبَ الدرسُ۔
3۔ مبتدا
جس سے جملہ اسمیہ شروع ہو۔
مثال:
العلمُ نافعٌ۔
4۔ خبر
جو مبتدا کے بارے میں خبر دے۔
مثال:
العلمُ نافعٌ۔
5۔ اسم کان و اخواتہا
مثال:
كانَ زيدٌ قائمًا۔
6۔ خبر إنَّ و اخواتہا
مثال:
إنَّ زيدًا قائمٌ۔
منصوبات
وہ اسماء جن پر نصب کا حکم ہو۔
1۔ مفعول بہ
مثال:
قرأتُ الكتابَ۔
2۔ مفعول مطلق
مثال:
ضربتُه ضربًا۔
3۔ مفعول فیہ (ظرف)
مثال:
سافرتُ ليلًا۔
4۔ مفعول لہ
مثال:
جئتُ طلبًا للعلم۔
5۔ مفعول معہ
مثال:
سرتُ والنهرَ۔
6۔ حال
مثال:
جاءَ الطالبُ راكبًا۔
7۔ تمیز
مثال:
اشتريتُ عشرين كتابًا۔
8۔ مستثنیٰ
مثال:
جاءَ القومُ إلا زيدًا۔
9۔ اسم إنَّ
مثال:
إنَّ اللهَ غفورٌ۔
10۔ خبر کان
مثال:
كانَ زيدٌ قائمًا۔
مجرورات
وہ اسماء جن پر جر کا حکم ہو۔
1۔ حرفِ جر سے مجرور
مثال:
ذهبتُ إلى المسجدِ۔
2۔ اضافت کی وجہ سے مجرور
مثال:
كتابُ الطالبِ۔
3۔ تابع کی وجہ سے مجرور
مثال:
مررتُ برجلٍ صالحٍ۔
سوم: علاماتِ اعراب کے اعتبار سے اسمِ معرب کی 12 اقسام
1۔ اسم مفرد منصرف
رفع: ضمہ، نصب: فتحہ، جر: کسرہ
مثال:
طالبٌ، طالبًا، طالبٍ
2۔ اسم مفرد غیر منصرف
رفع: ضمہ، نصب و جر: فتحہ
مثال:
أحمدُ، أحمدَ، أحمدَ
3۔ جمع مکسر منصرف
مثال:
رجالٌ، رجالًا، رجالٍ
4۔ جمع مکسر غیر منصرف
مثال:
مساجدُ، مساجدَ، مساجدَ
5۔ جمع مذکر سالم
رفع: واو، نصب و جر: یاء
مثال:
مسلمونَ، مسلمينَ
6۔ جمع مؤنث سالم
رفع: ضمہ، نصب و جر: کسرہ
مثال:
طالباتُ، طالباتِ
7۔ تثنیہ
رفع: الف، نصب و جر: یاء
مثال:
طالبانِ، طالبينِ
8۔ اسماء خمسہ
رفع: واو، نصب: الف، جر: یاء
مثال:
أبوك، أباك، أبيك
9۔ غیر منصرف اسماء
مثال:
أحمدُ، فاطمةُ، مساجدُ
10۔ اسم منقوص
وہ اسم جس کے آخر میں لازمی یاء ہو اور اس سے پہلے کسرہ ہو۔
مثال:
القاضي، الداعي
11۔ اسم مقصور
وہ اسم جس کے آخر میں لازمی الف ہو۔
مثال:
الفتى، العصا
12۔ اسم ممدود
وہ اسم جس کے آخر میں الف کے بعد ہمزہ ہو۔
مثال:
صحراء، حمراء، بناء
خلاصہ
اسمِ معرب کی تقسیم:
1۔ صرف کے اعتبار سے: منصرف، غیر منصرف
2۔ عوامل کے اعتبار سے: مرفوعات، منصوبات، مجرورات
3۔ علامات کے اعتبار سے: معرب کی 12 اقسام
یہ اسمِ معرب کے مکمل احکام کا جامع باب ہے۔